Showing Page:
  
 
  
  
  
 
  
   
   
  
 
 
  
 
  
 
 
  
  
 
 
 
Showing Page:
 
   
  
  
  
  
  
  
  
 
         
  
  
 
             
Showing Page:

Unformatted Attachment Preview

‫ایران و حماس کا اسرائیل پر بڑا حملہ‬ ‫سے آئی ہے۔ اس‬ ‫زور انداز میں ذکر‬ ‫اسرائیل پر کمر‬ ‫اب تک کی سب سے بڑی خبر آ گئی ہے اور یہ خبر اسرائیل‬ ‫خبر میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ حماس اور ایران کا پُر‬ ‫کیا گیا ہے ۔ کیونکہ ایران اور حماس کی جانب سے‬ ‫توڑ حملے شروع کر دئے گئے ہیں۔‬ ‫اور اسرائیل‬ ‫کارئین ِ محترم یہ تو آپ جانتے ہی ہو ں گے کہ فلسطین‬ ‫جس میں‬ ‫کے درمیان جنگ ‪،‬گزشتہ ماہ سے ہی جاری ہے‪،‬‬ ‫ادا کیا‬ ‫حماس کے ساتھ ساتھ ایران نے بھی بھر پور کردار‬ ‫رہے‬ ‫مگر اب یہ جنگ ایک بار پھر زور پکڑ‬ ‫ہے ۔‬ ‫ہی۔ کیونکہ اب اسرائیلی میڈیا ایسی خبریں نشر‬ ‫کرنے پر مجبور ہے ‪،‬جو آج سے پہلے تک اس نے دنیا سے چھپائی ہوئی تھی۔کیونکہ‬ ‫حماس نے ‪،‬اسرائیلی آئرن ڈوم ائیر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ کرتے ہوئے ۔ اسرائیلی آرمی کی‬ ‫ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو میزائل اور راکٹ حملوں سے اڑا کر رکھ دیا ہے ۔ جبکہ دوسری‬ ‫جانب ایران کی طرف سے بھی بہت بڑی خبر نکل کر سامنے آ رہی ہے ۔ اگر آپ کو یاد‬ ‫ہو تو جب امریکہ کی جانب سے ایران کے سپاہی پاسداران انقالب کے کمانڈر ‪،‬جنرل قاسم‬ ‫سلمانی کو شہید کیا گیا اور پھر اس کے بعد ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ‬ ‫کو ٹارگٹ کلنگ میں ٹارگٹ کر کے شہید کیا گیا تو اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے یہ‬ ‫توقع کی جا رہی تھی کہ اب ایران کی جانب سے سخت قسم کا ردعمل آئے گا‪ .‬لیکن ایران‬ ‫نے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل پر سوچ سمجھ کر فیصلہ کن جواب دینے‬ ‫کی دھمکی دی تھی‪ .‬لیکن اب اس دھمکی کو عملی جامع پہنا دیا گیا ہے ۔‬ ‫اس سے پہلے کہ ہم آپ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خالف اٹھائے جانے والے‬ ‫نئے اقدامات کے بارے میں آپ کو مکمل تفصیالت سے آگاہ کریں ۔ ہم ایران کی جانب‬ ‫سے اپنے جوہری سائ نسدان محسن فخری زادہ کے قتل کابدلہ لینے کے طریقے کار پر‬ ‫بات کریں گے ۔‬ ‫اور وہ خبر یہ ہے کہ ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کا بدلہ ایران‬ ‫کی جانب سے لے لیا گیا ہے‪ .‬ایران کی جانب سے اپنے جوہری سائنسدان کے قتل کے‬ ‫بدلے میں اسرائیل کے صف اول کے ایرو سپیس اور میزائل ٹیکنالوجی کے خالق سائنسدان‬ ‫کو ہالک کر دیا گیا‪ .‬اس سائنسدان کو کہاں پہ اور کیسے مارا گیا ہے‬ ‫ایران کے جوہری سائنسدان کے قتل کے بعد‪ ،‬ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام‬ ‫کو مزید ایڈوانس کرنے کے سلسلے میں کئی ڈویلپمنٹس سامنے آئیں اور اس کے بعد نے‬ ‫یورینیم کی افزودگی کو بیس فیصد سے بڑھا کر ساٹھ فیصد سے زیادہ کر لیا‪ .‬اس کے ساتھ‬ ‫ساتھ ایران کی جانب سے اکا دکا کاروائیوں میں اسرائیل کو جواب دیا جاتا رہا ۔سب سے بڑا‬ ‫اسرائیل کو سرپرائز تب مال ‪،‬کہ جب حماس کے ساتھ اس نے جنگ شروع کی ۔ تو ایران‬ ‫کی جانب سے اس پر راکٹوں کی برسات کر دی گئی ‪ .‬لیکن دوستوں یہ تو ایک ٹریلر تھا‪،‬‬ ‫مگر اس کے بعد ایران کی جانب سےمزید یہ کہا گیا ‪ ،‬کہ ہم شہید ہونے والے محسن‬ ‫فخری زادہ کے مجرموں کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کن جواب دینے کا حق رکھتے ہیں‪ .‬اور‬ ‫دوستوں اسرائیل یہ سمجھ رہا تھا کہ محسن فخری زادہ کے قتل میں اسرائیلی کردارثابت‬ ‫ہونے پر اسرائیلی بندرگاہ ‪ ،‬یا پھر اس کے شہر ہائیفہ پر حملہ کر دیا جائے گا یا پھر کچھ‬ ‫اور کیا جائے گا‪ .‬لیکن دوستوں ایران کی جانب سے محسن فخری زادہ کے لیول کے ہی‬ ‫سائنسدان کو مارنا ہی اس حملے کا مناسب جواب ہو سکتا تھا‪ .‬اس کا انتظار کیا گیا اور‬ ‫صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا گیا‪ .‬جیسے ہی حاالت ایران کے کنٹرول میں آئے تو وہی ہو جو‬ ‫ہو نا چاہئے تھا۔ صیہونی حکومت کے ایرو سپیس ادارے کے سربراہ ‪،‬جس کا نام ابھی‬ ‫ہاریون تھا انہوں نے اسرائیل کے لیے تباہ کن میزائل ٹیکنالوجی میں اہم کردار ادا کیا‪ .‬آج‬ ‫اس اسرائیلی سائنسد ہالک ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے‪.‬در حقیقت صیہونی جارحیت‬ ‫کے خالف جب فلسطینی احتجاجی مظاہرے کر رہے تھے تو اسی دوران ابھی ہریون‬ ‫اسرائیل کے آقا سٹی کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھا اور وہ شدید زخمی ہو گیا اور چار‬ ‫ہفتے تک موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد بآلخر آج صیہونی حکومت کا ایرو‬ ‫سپیس ادارے کا سربراہ ہالک ہو گیا ہے۔‬ ‫اب اگر دوسری خبر کے بات کی جائے جو کہ حماس کی تازہ ترین کارکردگی کے‬ ‫حوالے سے ہے ‪ ،‬تو اسرائیل و حماس کے درمیان لگی جنگ کی آگ بجائے اس کے کہ‬ ‫آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہو جائے ‪ ،‬ہر روز اس میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اب تو یہ‬ ‫جنگ اس قدر شدت اختیار کر چکی ہے کہ میدان جنگ میں زخمیوں سے زیادہ الشیں‬ ‫بکھری پڑی نظر آتی ہیں۔ ناظرین جیسا کہ میں نے ویڈیو کے شروع میں بات کی تھی کہ‬ ‫حماس کی تازہ ترین کاروائیوں کے نتیجے میں اسرائیل کو اتنی تکلیف ہو رہی ہے کہ‬ ‫اسرائیلی میڈیا اب وہ بھی خبریں دینے پر مجبور ہے کہ آج سے پہلے تک اس نے دنیا‬ ‫سے چھپا ئی ہوئی تھیں۔ حقیقت میں یہ بات بھی ‪ ،‬ففتھن جنریشن وار کا ہی ایک حصہ‬ ‫ہے ۔ کہ دشمن کے وار کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو چھپایا جائے ‪ ،‬اور اس‬ ‫پر ہونے والے حملوں کو نشر کیا جائے تا کہ دشمن کے دلوں میں خوف پیدا ہو سکے۔‬ ‫او راس کے حوصلے پست کر دئے جائیں۔ یہی چال اسرائیلی میڈیا سے چلوائی جا رہی‬ ‫تھی مگر اب ان کے ضبط بھی ٹوٹنے لگے ہیں۔ اور حماس کی جانب سے داگے جانے‬ ‫والے راکٹس اور میزائلوں کے ڈر سے ‪ ،‬اسرائیلی میڈیا کی جانب سے لوگوں کو بے‬ ‫وجہ باہر نہ نکلنے کی تلقین کی جار ہی ہے ۔ اور ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کرنے‬ ‫کا کہا جا رہا ہے ۔ ان جھڑپوں کے حوالے سے جو تازہ ترین اطالعات موصول ہو رہی ہیں‬ ‫ان خبروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سےیہ دعوی کیا گیا ہے کہ حماس نےفوجی‬ ‫گاڑیوں اور بسوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے‪ .‬جس کےنتیجے میں سینکڑوں لوگ لقمہ‬ ‫اجل بن گئے‪ .‬اور اس میں اسرائیلی فوجیوں کے مرنے کی اطالعات بھی موصول ہوئی‬ ‫ہیں‪ .‬یہ حملہ حماس کی جانب سے ویسٹ بینک کے عالقے سے داغا گیا‪ .‬اور ایک بار پھر‬ ‫حماس کے مذاہب اسرائیلی ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں پر جا گریں‬ ‫اور درجنوں فوجی لقمہ اجل بن گئے۔ اسلیے میری آپ تمام دوستوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ‪،‬‬ ‫کہ ہر نماز کے بعد دعا کیا کریں کہ ہللا پاک تمام مسلمانوں کو اپنے حفظ امان میں رکھے۔ اور حماس‬ ‫دشمنان اسالم کو نست‬ ‫آرمی کی طرح مظلوموں کی مدد کو آنے والوں کے کامیابیاں عطاء فرمائے ۔‬ ‫ِ‬ ‫و نابود کر دے۔ اور تمام مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی فضاء پیدا کر کے ان سب اسالمی ممالک‬ ‫کو دو جسم اور ایک جان کے مسداق ‪ ،‬اکھٹا کر دے ۔ تا کہ اسالم مخالف قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر‬ ‫سکیں۔ آج کے لیے بس اتنا ہی نئی تحریر کے لیے پھر حاضر ہوں گا۔ تب تک اپنا بہت سارہ خیال‬ ‫رکھیے ۔ ہللا نگہبان‬ Name: Description: ...
User generated content is uploaded by users for the purposes of learning and should be used following Studypool's honor code & terms of service.