Showing Page:
Showing Page:
Showing Page:
Showing Page:
Showing Page:
Showing Page:
Showing Page:
Showing Page:
Showing Page:
Showing Page:
Showing Page:

Unformatted Attachment Preview

‫‪‬‬ ‫سورة الغَا ِشیَة‬ ‫ِب ْس ِم ه ِ‬ ‫الر ِح ِیم‬ ‫الر ْح َم ِن ه‬ ‫َّللا ه‬ ‫اك َحد ُ‬ ‫ِیث ْالغَا ِشیَ ِة‬ ‫َه ْل أَت َ َ‬ ‫﴿‪﴾088:001‬‬ ‫[جالندهری] بھال تم کو ڈهانپ لینے والی (قیامت) کا حال معلوم‬ ‫ہوا ہے؟‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫سب کو ڈهانپنے والی حقیقت‬ ‫غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو‬ ‫گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈهانپ لے گی ابن ابی حاتم‬ ‫میں ہے کہ رسول ہللا صلی ہللا علیہ وآلہ وسلم کہیں جا رہے تھے‬ ‫کہ ایک عورت کی قرآن پڑهنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر‬ ‫سننے لگے اس نے یہی آیت هل اتک پڑهی یعنی کیا تیرے پاس‬ ‫ڈهانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ تو آپ نے جوابا ً‬ ‫فرمایا نعم قد جآء نی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن‬ ‫بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی‬ ‫ہوں گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے‬ ‫بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی‬ ‫ہوئی آگ میں داخل ہو گئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک خانقاہ‬ ‫کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا‬ ‫آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا حضرت کیا بات ہے؟‬ ‫تو فرمایا اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت‬ ‫کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے حضرت ابن عباس‬ ‫فرماتے ہیں اس سے مراد نصرانی ہیں عکرمہ اور سدی فرماتے‬ ‫ہیں کہ دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب‬ ‫کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی‬ ‫جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے ضریع کے اور کچھ‬ ‫کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ‬ ‫تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ‬ ‫بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑهائے نہ بھوک مٹائے‬ ‫یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‬ ‫ُو ُجوہٌ یَ ْو َم ِئ ٍذ خَا ِشعَةٌ‬ ‫﴿‪﴾088:002‬‬ ‫[جالندهری] اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫َاصبَةٌ‬ ‫ع ِ‬ ‫َ‬ ‫املَةٌ ن ِ‬ ‫﴿‪﴾088:003‬‬ ‫[جالندهری] سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫امیَةً‬ ‫َارا َح ِ‬ ‫تَ ْ‬ ‫صلَى ن ً‬ ‫﴿‪﴾088:004‬‬ ‫[جالندهری] دہکتی آگ میں داخل ہوں گے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫عی ٍْن آ ِنیَ ٍة‬ ‫ت ُ ْسقَى ِم ْن َ‬ ‫﴿‪﴾088:005‬‬ ‫[جالندهری] ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پالیا جائے‬ ‫گا‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫ْس لَ ُھ ْم َ‬ ‫یع‬ ‫طعَا ٌم ِإ هَّل ِم ْن َ‬ ‫لَی َ‬ ‫ض ِر ٍ‬ ‫﴿‪﴾088:006‬‬ ‫[جالندهری] اور خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لئے کوئی کھانا‬ ‫نہیں (ہوگا)‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫ََّل یُ ْس ِم ُن َو ََّل یُ ْغ ِني ِم ْن ُجوعٍ‬ ‫﴿‪﴾088:007‬‬ ‫[جالندهری] جو نہ فربہی َّلئے گا نہ بھوک میں کچھ کام آئے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫ُو ُجوہٌ یَ ْو َمئِ ٍذ نَا ِع َمةٌ‬ ‫﴿‪﴾088:008‬‬ ‫[جالندهری] اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوگے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫ہر طرف سالم ہی سالم‬ ‫اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو‬ ‫یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے‪ ،‬چنانچہ‬ ‫فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر‬ ‫خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے‬ ‫خوش ہوں گے‪ ،‬جنتوں کے بلند باَّل خانوں میں ہوں گے جس میں‬ ‫کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی۔ جیسے فرمایا آیت (َّل یسمعون‬ ‫فیھا لغوا اَّل سالما) اس میں سوائے سالمتی اور سالم کے کوئی‬ ‫بری بات نہ سنیں گے اور فرمایا آیت (َّل لغو فیھا وَّل تاثیم) نہ اس‬ ‫میں بیہودگی ہے نہ گناہ کی باتیں اور فرمایا ہے آیت (َّل یسمعون‬ ‫فیھا لغوا وَّل تاثیما اَّل قلیال سالما سالما) نہ اس میں فضول گوئی‬ ‫سنیں گے نہ بری باتیں سوائے سالم ہی سالم کے اور کچھ نہ ہو‬ ‫گا اس میں بہتی ہوئی نہریں ہوں گی یہاں نکرہ اثبات کے سیاق‬ ‫میں ہے ایک ہی نہر مراد نہیں بلکہ جنس نہر مراد ہے یعنی‬ ‫نہریں بہتی ہوں گی۔ رسول ہللا صلی ہللا علیہ وآلہ وسلم فرماتے‬ ‫ہیں جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں اور مشک کے ٹیلوں سے‬ ‫نکلتی ہیں ان میں اونچے اونچے بلند و باَّل تخت ہیں جن پر‬ ‫بہترین فرش ہیں اور ان کے پاس حوریں بیٹھی ہوئی ہیں گویہ‬ ‫تخت بہت اونچے اور ضخامت والے ہیں لیکن جب یہ ہللا کے‬ ‫دوست ان پر بیٹھنا چاہیں گے تو وہ جھک جائیں گے‪ ،‬شراب کے‬ ‫بھر پور جام ادهر ادهر قرینے سے چنے ہوئے ہیں جو چاہے جس‬ ‫قسم کا چاہے جس مقدار میں چاہے لے لے اور پی لے‪ ،‬اور تکیے‬ ‫ایک قطار میں لگے ہوئے اور ادهر ادهر بہترین بستر اور فرش‬ ‫باقاعدہ بچھے ہوئے ہیں ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث رسول ہللا‬ ‫صلی ہللا علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کوئی ہے جو تہمد چڑهائے‬ ‫جنت کی تیاری کرے اس جنت کی جس کی لمبائی چوڑائی‬ ‫بےحساب ہے رب کعبہ کی قسم وہ ایک چمکتا ہوا نور ہے وہ‬ ‫ایک لہلہاتا ہوا سبزہ ہے وہ بلند و باَّل محالت ہیں وہ بہتی ہوئی‬ ‫نہریں ہیں وہ بکثرت ریشمی حلے ہیں وہ پکے پکائے تیار عمدہ‬ ‫پھل ہیں وہ ہمیشگی والی جگہ ہے دوسرا سر میوہ جات سبزہ‬ ‫راحت اور نعمت ہے وہ تر و تازہ بلند و باَّل جگہ ہے سب لوگ‬ ‫بول اٹھے کہ ہم سب اس کے خواہش مند ہیں اور اس کے لیے‬ ‫تیاری کریں گے فرمایا انشاء ہللا ٰ‬ ‫تعالی کہو صحابہ کرام نے انشاء‬ ‫ہللا ٰ‬ ‫تعالی کہا۔‬ ‫اضیَةٌ‬ ‫س ْع ِی َھا َر ِ‬ ‫ِل َ‬ ‫﴿‪﴾088:009‬‬ ‫[جالندهری] اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫عا ِلیَ ٍة‬ ‫فِي َجنه ٍة َ‬ ‫﴿‪﴾088:010‬‬ ‫[جالندهری] بہشت بریں میں‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫ََّل ت َ ْس َم ُع ِفی َھا ََّل ِغیَةً‬ ‫﴿‪﴾088:011‬‬ ‫[جالندهری] وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫اریَةٌ‬ ‫فِی َھا َ‬ ‫عی ٌْن َج ِ‬ ‫﴿‪﴾088:012‬‬ ‫[جالندهری] اس میں چشمے بہہ رہے ہوں گے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫عةٌ‬ ‫فِی َھا ُ‬ ‫س ُر ٌر َم ْرفُو َ‬ ‫﴿‪﴾088:013‬‬ ‫[جالندهری] وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫عةٌ‬ ‫َوأ َ ْك َو ٌ‬ ‫اب َم ْو ُ‬ ‫ضو َ‬ ‫﴿‪﴾088:014‬‬ ‫[جالندهری] اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫صفُوفَةٌ‬ ‫ار ُق َم ْ‬ ‫َونَ َم ِ‬ ‫﴿‪﴾088:015‬‬ ‫[جالندهری] اور گاؤ تکئے قطار لگے ہوئے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫ي َم ْبثُوثَةٌ‬ ‫َوزَ َرا ِب ُّ‬ ‫﴿‪﴾088:016‬‬ ‫[جالندهری] اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫أَفَ َال یَ ْن ُ‬ ‫ْف ُخ ِلقَ ْ‬ ‫ت‬ ‫ظ ُرونَ ِإلَى ْ ِ‬ ‫اْل ِب ِل َكی َ‬ ‫﴿‪﴾088:017‬‬ ‫[جالندهری] کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے‬ ‫(عجیب) پیدا کئے گئے ہیں‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫کائنات پر غور و تدبر کی دعوت‬ ‫ہللا ٰ‬ ‫تعالی اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر‬ ‫تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بے انتہا قدرت‬ ‫ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی‬ ‫پاک ذات پر ہر ایک چیز کس طرح دَّللت کر رہی ہے اونٹ کو‬ ‫ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا‬ ‫مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور‬ ‫آسانی سے بوجھ َّلد لیتا ہے اور ایک بچے کیساتھ کس طرح‬ ‫اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے‬ ‫میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دوده تم پیو اور‬ ‫طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ‪ ،‬اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے‬ ‫بیان کیا گیا کہ عموما عرب کے ملک میں اور عربوں کے پاس‬ ‫یہی جانور تھا حضرت شریح قاضی فرمایا کرتے تھے آؤ چلو چل‬ ‫کر دیکھیں کہ اونٹ کی پیدائش کس طرح ہے اور آسمان کی بلندی‬ ‫زمین سے کس طرح ہے وغیرہ اور جگہ ارشاد ہے آیت (افلم‬ ‫ینظروا الی اسمآء فوقھم) الخ کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو‬ ‫نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا کیسے مزین کیا اور‬ ‫ایک سوراخ نہیں چھوڑا‪ ،‬پھر پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے گاڑ‬ ‫دئیے گئے تاکہ زمین ہل نہ سکے اور پہاڑ بھی اپنی جگہ نہ‬ ‫چھوڑ سکیں پھر اس میں جو بھالئی اور نفع کی چیزیں پیدا کی‬ ‫ہیں ان پر بھی نظر ڈالو زمین کو دیکھو کہ کس طرح پھیال کر‬ ‫بچھا دی گئی ہے غرض یہاں ان چیزوں کا ذکر کیا جو قرآن کے‬ ‫مخاطب عربوں کے ہر وقت پیش نظر رہا کرتی ہیں ایک بدوی‬ ‫جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلتا ہے زمین اس کے نیچے ہوتی‬ ‫ہے آسمان اس کے اوپر ہوتا ہے پہاڑ اس کی نگاہوں کے سامنے‬ ‫ہوتے ہیں اور اونٹ پر خود سوار ہے ان باتوں سے خالق کی‬ ‫قدرت کاملہ اور صنعت ظاہرہ بالکل ہویدا ہے اور صاف ظاہر ہے‬ ‫کہ خالق‪ ،‬صانع‪ ،‬رب عظمت و عزت واَّل مالک اور متصرف‬ ‫معبود برحق اور ہللا حقیقی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی ایسا‬ ‫نہیں جس کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا اظہار کریں جسے‬ ‫ہم حاجتوں کے وقت پکاریں جس کا نام دود زباں بنائیں اور جس‬ ‫کے سامنے سر خم ہوں حضرت ضمام رضی ہللا ٰ‬ ‫تعالی عنہ نے‬ ‫جو سواَّلت آنحضرت صلی ہللا علیہ وآلہ وسلم سے کیے تھے وہ‬ ‫اس طرح کی قسمیں دے کر کیے تھے بخاری مسلم ترمذی نسائی‬ ‫مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے حضرت انس رضی ہللا ٰ‬ ‫تعالی عنہ‬ ‫فرماتے ہیں کہ ہمیں بار بار سواَّلت کرنے سے روک دیا گیا تھا‬ ‫تو ہماری یہ خواہش رہتی تھی کہ باہر کا کوئی عقل مند شخص‬ ‫آئے وہ سواَّلت کرے ہم بھی موجود ہوں اور پھر حضور صلی ہللا‬ ‫علیہ وسلم کی زبانی جوابات سنیں چنانچہ ایک دن بادیہ نشین آئے‬ ‫اور کہنے لگے اے محمد (صلی ہللا علیہ وآلہ وسلم) آپ کے قاصد‬ ‫ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا آپ فرماتے ہیں کہ ہللا نے آپ کو‬ ‫اپنا رسول بنایا ہے آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا وہ کہنے لگا‬ ‫بتائیے آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی ہللا علیہ وسلم نے‬ ‫فرمایا ہللا نے کہا زمین کس نے پیدا کی؟ آپ صلی ہللا علیہ وسلم‬ ‫نے فرمایا ہللا نے کہا ان پہاڑوں کو کس نے گاڑ دیا؟ ان سے یہ‬ ‫فائدے کی چیزیں کس نے پیدا کیں؟ آپ صلی ہللا علیہ وسلم نے‬ ‫فرمایا ہللا نے کہا پس آپ کو قسم ہے اس ہللا کی جس نے آسمان و‬ ‫زمین پیدا کیے اور ان پہاڑوں کو گاڑا کیا ہللا نے آپ کو اپنا‬ ‫رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں کہنے لگے آپ کے‬ ‫قاصد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض‬ ‫ہیں فرمایا اس نے سچ کہا۔ کہا اس ہللا کی آپ کو قسم ہے جس نے‬ ‫آپ کو بھیجا کہ کیا یہ ہللا کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ کہنے‬ ‫لگے آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مالوں میں ہم پر‬ ‫زکوة فرض ہے فرمایا سچ ہے پھر کہا آپ کو اپنے بھیجنے والے‬ ‫ہللا کی قسم کیا ہللا نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ فرمایا ہاں مزید کہا‬ ‫کہ آپ کے قاصد نے ہم میں سے طاقت رکھنے والے لوگوں کو‬ ‫حج کا حکم بھی دیا ہے آپ نے فرمایا ہاں اس نے جو کہا سچ کہا‬ ‫وہ یہ سن کر یہ کہتا ہوا چل دیا کہ اس ہللا واحد کی قسم جس نے‬ ‫آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے نہ میں ان پر کچھ زیادتی کروں گا‬ ‫نہ ان میں کوئی کمی کروں گا۔ نبی صلی ہللا علیہ وآلہ وسلم نے‬ ‫فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گا۔ بعض‬ ‫روایات میں ہے کہ اس نے کہا میں ضمام بن ثعلبہ ہوں بنو سعد‬ ‫بن بکر کا بھائی ابو یعلی میں ہے کہ رسول ہللا صلی ہللا علیہ وآلہ‬ ‫وسلم ہمیں اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں‬ ‫ایک عورت پہاڑ پر تھی اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا سا بچہ‬ ‫تھا یہ عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے لڑکے نے اس سے‬ ‫پوچھا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا ہللا نے۔‬ ‫پوچھا میرے ابا جی کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے کہا ہللا نے پوچھا‬ ‫مجھے؟ کہا ہللا نے پوچھا آسمان کو ؟ کہا ہللا نے‪ ،‬پوچھا زمین کو؟‬ ‫تعالی نے پیدا‬ ‫کہا ہللا نے‪ ،‬پوچھا پہاڑوں کو؟ بتایا کہ انہیں بھی ہللا‬ ‫ٰ‬ ‫کیا ہے بچے نے پھر سوال کیا کہ اچھا ان بکریوں کو کس نے پیدا‬ ‫کیا؟ ماں نے کہا انہیں بھی ہللا ٰ‬ ‫تعالی نے پیدا کیا ہے بچے کے منہ‬ ‫سے بے اختیار نکال کہ ہللا ٰ‬ ‫تعالی بڑی شان واَّل ہے اس کا دل‬ ‫عظمت ہللا سے بھر گیا وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور پہاڑ‬ ‫پر سے گر پڑا‪ ،‬ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ ابن دینار فرماتے ہیں‬ ‫حضرت ابن عمر رضی ہللا عنہ بھی یہ حدیث ہم سے اکثر بیان‬ ‫فرمایا کرتے تھے اس حدیث کی سند میں عبدہللا بن جعفر مدینی‬ ‫ضعیف ہیں۔ امام علی بن مدینی جو ان کے صاحبزادے اور جرح‬ ‫و تعدیل کے امام ہیں وہ انہیں یعنی اپنے والد کو ضعیف بتالتے‬ ‫ہیں۔ ہللا ٰ‬ ‫تعالی پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی ہللا علیہ وسلم تم تو‬ ‫ہللا کی رسالت کی تبلیغ کیا کرو تمہارے ذمہ صرف بالغ ہے‬ ‫حساب ہمارے ذمہ ہے آپ ان پر مسلط نہیں ہیں جبر کرنے والے‬ ‫نہیں ہیں ان کے دلوں میں آپ ایمان پیدا نہیں کر سکتے‪ ،‬آپ انہیں‬ ‫ایمان َّلنے پر مجبور نہیں کر سکتے‪ ،‬رسول ہللا صلی ہللا علیہ‬ ‫وآلہ وسلم فرماتے ہیں مجھے حکم کیا ہے کہ میں لوگوں سے‬ ‫لڑوں یہاں تک کہ وہ َّل الہ اَّل ہللا کہیں جب وہ اسے کہہ لیں تو‬ ‫انہوں نے اپنے جان و مال مجھ سے بچا لیے مگر حق اسالم کے‬ ‫ساتھ اور ان کا حساب ہللا ٰ‬ ‫تعالی کے ذمہ ہے پھر آپ نے اسی آیت‬ ‫کی تالوت کی (مسلم ترمذی مسند وغیرہ) پھر فرماتا ہے مگر وہ‬ ‫جو منہ موڑے اور کفر کرے یعنی نہ عمل کرے نہ ایمان َّلئے نہ‬ ‫اقرار کرے جیسے فرمان ہے آیت (فال صدق وَّل صلی ولکن کذب‬ ‫وتولی) نہ تو سچائی کی تصدیق کی نہ نماز پڑهی بلکہ جھٹالیا‬ ‫اور منہ پھیر لیا اسی لیے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا ابو امامہ باہلی‬ ‫حضرت خالد بن یزید بن معاویہ رضی ہللا عنہ کے پاس گئے تو‬ ‫کہا کہ تم نے نبی صلی ہللا علیہ وآلہ وسلم سے جو آسانی سے‬ ‫آسانی والی حدیث سنی ہو اور اسے مجھے سنا تو آپ نے فرمایا‬ ‫میں نے حضور صلی ہللا علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم میں سے‬ ‫ہر ایک جنت میں جائیگا مگر وہ جو اس طرح کی سرکشی کرے‬ ‫جیسے شریر اونٹ اپنے مالک سے کرتا ہے (مسند احمد) ان سب‬ ‫کا لوٹنا ہماری ہی جانب ہے اور پھر ہم ہی ان سے حساب لیں گے‬ ‫اور انہیں بدلہ دیں گے‪ ،‬نیکی کا نیک بدی کا بد۔ سورہ غاشیہ کی‬ ‫تفسیر ختم ہوئی۔‬ ‫ْف ُرفِعَ ْ‬ ‫ت‬ ‫َو ِإلَى ال ه‬ ‫س َم ِ‬ ‫اء َكی َ‬ ‫﴿‪﴾088:018‬‬ ‫[جالندهری] اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا ہے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫صب َ ْ‬ ‫ت‬ ‫ْف نُ ِ‬ ‫َو ِإلَى ْال ِجبَا ِل َكی َ‬ ‫﴿‪﴾088:019‬‬ ‫[جالندهری] اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے‬ ‫ہیں‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫س ِط َح ْ‬ ‫ت‬ ‫ْف ُ‬ ‫َو ِإلَى ْاْل َ ْر ِ‬ ‫ض َكی َ‬ ‫﴿‪﴾088:020‬‬ ‫[جالندهری] اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫ت ُمذَ ِك ٌر‬ ‫فَذَ ِك ْر ِإنه َما أ َ ْن َ‬ ‫﴿‪﴾088:021‬‬ ‫[جالندهری] تو تم نصحیت کرتے رہو کہ تم نصحیت کرنے والے‬ ‫ہی ہو‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫صی ِْط ٍر‬ ‫لَ ْس َ‬ ‫ت َ‬ ‫علَ ْی ِھ ْم ِب ُم َ‬ ‫﴿‪﴾088:022‬‬ ‫[جالندهری] تم ان پر داروغہ نہیں ہو‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫ِإ هَّل َم ْن ت َ َولهى َو َكفَ َر‬ ‫﴿‪﴾088:023‬‬ ‫[جالندهری] ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫اب ْاْل َ ْكبَ َر‬ ‫فَیُعَ ِذبُهُ ه‬ ‫َّللاُ ْالعَذَ َ‬ ‫﴿‪﴾088:024‬‬ ‫[جالندهری] تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫ِإ هن ِإلَ ْینَا ِإیَابَ ُھ ْم‬ ‫﴿‪﴾088:025‬‬ ‫[جالندهری] بے شک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے‬ ‫تفسیر ابن كثیر‬ ‫سابَ ُھ ْم‬ ‫ث ُ هم ِإ هن َ‬ ‫علَ ْینَا ِح َ‬ ‫﴿‪﴾088:026‬‬ ‫[جالندهری] پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے‬ Name: Description: ...
User generated content is uploaded by users for the purposes of learning and should be used following Studypool's honor code & terms of service.